چامراج نگر، 16دسمبر (ایس او نیوز؍یو این آئی) رامناپورم پولیس جس نے مارما مندر کے پجاری کو پوچھ تاچھ کیلئے دیگر دو مشتبہ افراد کے ساتھ حراست میں لے لیا،نے سمیت غذا کے معاملہ کی جانچ شروع کردی ہے جس میں11افراد کی موت ہوگئی اور 80افراد کو اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔پولیس نے کہاکہ چنپا اور مدیشا کو ہفتہ کی صبح حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ان تینوں کی نامعلوم مقام پر پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔اسی دوران ہنور تعلقہ میں زیرعلاج چار افراد کو میسورو منتقل کردیاگیا ہے ۔چار افراد بشمول ملیکا ، سرینواس کو میسورومنتقل کردیاگیا ہے ۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر پرساد نے 11افراد کی موت کی تصدیق کردی ہے اور 29افراد ہنوز زندگی کیلئے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ریاستی حکومت کی جانب سے میسورو میں چلائے جانے والے کے آراسپتال میں چار افراد کی تشویشناک حالت کے ماسوابقیہ مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جو چھ پرائیویٹ اسپتالوں میں مصنوعی آلات پر ہیں۔104متاثرہ افراد بشمول 11کی موت کے بعد 93مریضوں کو چامراج نگر ضلع کو میسوروکے اسپتالوں سے منتقل کردیاگیا ہے ۔ڈاکٹر پرساد نے کہا کہ مہلوکین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے ارکان خاندان کے حوالے کردیا گیا ہے ۔میسوراسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ تشویشناک مریضوں کے زہر کا اثر کم ہونے کے بعد ہی ان کی حالت کے بارے میں 48گھنٹوں بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے ۔چامراج نگر ضلع کے نگران وزیر پٹ رنگا شٹی نے کہاکہ پولیس نے دو افراد کو تحویل میں لیا ہے اور ان سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا‘‘مجھے کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے پس پردہ مزید افراد پر شبہ ہے ۔اس مرحلہ پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ جانچ جاری ہے ۔’’